بنگلورو۔11/اگست(ایس او نیوز) یلہنکا ڈویژن کے ڈوڈ بمن ہلی تالاب تک بڑے نالے کے کنارے تعمیر شدہ غیر قانونی مکانات کو آج بی بی ایم پی عملے نے انتہائی بے رحمی کے ساتھ منہدم کردیا۔نالے کی جگہ کو خالی کرنے کیلئے 20 سے زائد عمارتوں کو جزوی طور پر منہدم کردیا گیا۔ آج صبح ساڑھے نو بجے کے قریب شروع ہونے والی انہدامی مہم کومکان مالکان اور دکانداروں کی طرف سے مہلت کی درخواست کو نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھایا گیا۔یہاں تک کہ مکینوں اور دکانداروں کو اپنے اسباب اٹھانے کی بھی مہلت دینے سے انہدامی عملے نے انکار کردیا۔ مقامی لوگوں اور بی بی ایم پی افسران کے درمیان انہی باتوں کو لے کر بار بار جھڑپیں ہوتی رہیں۔ ان لوگوں نے کہاکہ انہیں کچھ دنوں کی مہلت دے دی جائے،رضاکارانہ طور پر وہ اپنے گھر خود گرادیں گے، لیکن حکام نے انہیں مہلت دینے سے انکار کردیا اور بھاری مشینوں نے مکانات منہدم کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ دکانوں سے قیمتی اسباب ہٹانے تک موقع فراہم نہیں کیاگیا۔ ایک دکاندار اپنے کپڑوں کی دکان کو گرتے دیکھ کر عارضہئ قلب کا شکار ہوگیا، فوری طور پر اسے قریبی اسپتال لے جایا گیا۔ ڈوڈ بمسندرا میں پچھلے دو دنوں سے بی بی ایم پی کی طرف سے تعینات انہدامی عملہ اور ٹوٹے مکانات کا ملبہ ہی نظر آرہاہے۔